Showing posts with label MEDICINE. Show all posts
Showing posts with label MEDICINE. Show all posts

Saturday, 2 May 2020

CALIFORNIAN DOCTORS’ VIRAL VIDEO VIEWED BY 5 MILLION, VANISHED? WHAT WAS WRENCHING IN IT?


CALIFORNIAN DOCTORS’ VIRAL VIDEO VIEWED BY 5 MILLION, VANISHED? WHAT WAS WRENCHING IN IT?

Prof Waqar Hussain


         An hour long video of two doctors from California; Dr. Dan Erickson and Artin Massihi that had more than 5 million views. Both are co-owner of Accelerated Urgent Care. They held a press conference on YouTube and presented flurry of corona virus data and then interpreted them in the light of their own long clinical experience and suggested viable modus operandi to cope corona calamity and coinage crisis.
          Dr. Erickson said: “I am following flu season for the past 15 years, we have flue in December to March in spite of the fact, we have vaccine from flu. But how well that is working? We have about 60,000 deaths from flu in 2017-2018 and we had vaccine so we have a conversation about herd immunity and proposed to let it run”. Probably Doctors’ disclosure about disability of vaccine; hit hard on pharmaceutical economic interest?
           Dr. Erickson spoke by analyzing collected data: “Who has done lock-down and who has not. Does it matter? So, when I look at data globally, I looked at Sweden, I looked at California, New York, USA… and I say: one lock-down; and one didn’t. Has it affected the death rate?... The death rate is 150/million for United States; 200 per million for Sweden; 400 per million for Spain; 400 per million for Italy and they all locked down. Their death rate is higher.”
           Dr. Erickson went on to question “Do we need to shelter-in- place? Answer is emphatically NO; do we need businesses to be shut down? Emphatically NO; do we need to have test them and get them back to work? Yes, we do”.
           Californian Docs further disclosed: “We have seen 1227 deaths in the state of California with a possible incidence or prevalence of 4.7 million that mean you have 0.03 chance of dying from COVID-19 in California. Is that necessitate sheltering in place? Is that necessitate sheltering health system? Does that necessitate people out of work?
           Californian Docs further pointed out in video that dissent of any kind have not tolerated in this country. Fact based honesty, which is the soul of science, is under attack. Even in hospital, Dr. Erickson described physician being harassed to classify illness and death as related to corona virus. We are pressurized to test for flu. It is interesting when I am writing my death report, I am being pressurized to add COVID-19. What is this? It may be to increase the number and make it look little bit worse than it is, I think so”.
             Data shows that society should reopen “We started gathering data using a nasal nasopharyngeal swab and meeting all other requirement/ standards of the CDC. We did 6000 tests and were getting about 6.5-7% positive infection cases of COVID-19. In current county, that is just under a million. And antibody testing has 60-90% accuracy.” (if one takes the mean of accuracy 75%. So positive patients are 5 or around.) It validates their call to reopen Kern County.
          If above two docs had conducted this press conference in any totalitarian society, their video would have immediately been removed, shackling docs liberty of expression. Irony of fate, it all happened in democratic United states, who advocates, ensures liberty of expression and take pride for it worldwide. The First Amendment protects freedom of speech and says: “In general, the First Amendment guarantees the right to express ideas and information. On a basic level, it means that people can express an opinion (even an unpopular or unsavory one) without fear of government censorship”. One can rebut the docs by counter arguments but silencing them doesn’t sound sensible. And the deletion of their video proved hard pill to swallow for many who are conjecturing; Is the Statue of Liberty is still beaming torch up?

Wednesday, 1 April 2020

CORONAVIRUS SA 99% BACHNAY KA TAREEKA !

                        !  کرونا وائرس سے 99٪ بچاؤ کا طریقہ 
پروفیسر وقار حسین

ڈاکٹر ڈیوڈ پرائس نے ایک ویڈیولنک کے ذریعہ ، لوگوں کے کرونا وائرس کے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ (وڈیو دیکھیں ) ڈاکٹر پرائس اجکل پریمیئر ہسپتال نیو یارک کے  انتہائی نگہداشت یونٹ میں  کرونا کے سیریس مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ۔

ڈاکٹر پرائس کے مطابق کرونا وائرس بالعموم  ہاتھ پر لگتا ہے  اور جب کوئی شخص چہرے کو چھوتا ہے، تو یہ وائرس آنکھ، ناک یا منہ کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہو جاتا ہے ۔ ان کے مطابق یہ بیماری مکمل طور کنٹیگوئس ہے ، ہوا کے ذریعہ اس کا پھیلاؤ بہت ہی کم ہے ۔  مثلا، اگر کوئی شخص حفاظتی تدابیر اختیار کئے بغیر،  کرونا مریض کی قربت میں  ایک بند کمرہ میں، پندرہ سے تیس منٹ رہے؛ تو امکان ہے کہ وہ ہوا کے ذریعے کرونا وائرس کا شکار ہو جائے ۔ ان کے نزدیک اس بیماری کا پھیلاؤ میں :  مریض کے ڈراپلیٹ سے اشیاء کا آلودہ ہونا، پھر ہاتھ کا ان اشیاء سے لگنا اور پھر ہاتھوں کا چہرے سے چھونا؛ یعنی اشیاء، ہاتھ اور چہرے کی تکون  شامل ہے  اور وہ ویڈیو میں  اس تکون کو  توڑنے کےلئے دو طریقے بتاتے ہیں۔

پہلا طریقہ :  "آ دمی ہینڈ ناٹی" ہوجائے  اور اپنا سارا فوکس ہاتھ کی حرکات پر مرکوز کرے کہ وہ کہاں کہاں ہاتھ لگاتا ہے  اور اس کا ہاتھ کن کن اشیاء کو چھوتا ہے ؟ ہاتھ کی سرگرمیاں دیکھنے سے  پتہ چل جائے گا کہ ہاتھ کب، کہاں اور کس طرح سے جراثیم سے آلودہ ہوتا ہے ۔  اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے  ہاتھ جراثیم زدہ ہوتے ہیں  اور ہمیں پتہ تک نہیں ہوتا ۔ ہم انہیں صاف سمجھ کر چہرے پر لگا لیتے ہیں۔  گویا ڈاکٹر پرائس کے مطابق پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کی آلودگی کا ادراک کر کے فوراً   ہاتھوں کو دھو لیا جائے ۔
                                                          :دوسرا طریقہ
انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ ہاتھ کب، کیوں اور چہرے کے کس حصے  کو بار بار لگاتا ہے؟  2015 میں  آسٹریلیا کی نارتھ ساؤتھ ویل یونیورسٹی میں میری لاؤ س میکلاز نے ایک سٹڈی کروای،  جس میں  چھبیس میڈیکل کے طلبا کی حرکات کی ویڈیو ریکارڈ کرکے دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ اوسطاً ہر طالبعلم ایک گھنٹہ میں تیئیس دفعہ چہرے کو ہاتھ لگاتا ہے ۔ تحقیق میں مزید پتا چلا کہ ہاتھ نے چونتالیس فیصد آنکھ ،ناک اور منہ کو چھوہا  اور چھپن فیصد چہرے کے دوسرے حصوں کو ۔ سٹڈی سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ چھتیس فیصد دفعہ منہ کو؛   اکتیس فیصد دفعہ نا ک کو اور ستائیس فیصد دفعہ آنکھ کو چھوا گیا  اور  چھ فیصد دفعہ ان تینوں یا دونوں حصوں کو چھوا  گیا ۔   
ہاتھ  کی حرکات کے بارے  کیلیوفورنیا یونیورسٹی کے ماہر نفسیات  ڈاچر  کیلٹنر نے بتایا کہ کہ چہرے کو چھونا ،خود کو ریلیکسیشن  دیتا ہے ،  یہی وجہ ھے کہ وہ بار بار چہرے کو ٹچ  کر تا  ھے۔  جبکہ ایک اور سٹڈی سے یہ معلوم ہوا  کہ "جلد کا جلد" کو چھونے سے  "آکسی ٹاکسن " ہارمون خارج ہوتا ہے جو سکون اور فرحت دینے کے ساتھ ساتھ اسٹریس کو بھی کم کرتا ہے۔
ہاتھوں کا چہرے کو چھونے کا عمل لا شعوری ہے ۔ انسان اور گنتی کے دوسرے جانوروں کے علاوہ ،یہ عادت کسی اور جانور میں نہیں ہے ۔ کہ  اس عادت پر قابو پایا جاساس عمل کے پیچھے جسمانی، نفسیاتی ،ماحولیاتی  عوامل وغیرہ شامل ہیں ۔ ڈاکٹر پرائس نے سارا زور اس بات پر دیا ہے کہ اس لاشعوری عمل کا ادراک  شعوری سطح پر کیا جائے تا کے۔  




 عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس پریس بریفنگ  میں لوگوں سے اپیل کر رہے تھے کہ چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں  اور جونہی  بریفنگ ختم ہوئی تو انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ عینک اتاری  اور آنکھوں کو ملنا شروع کر دیا ۔ اسی طرح کیلیفورنیا شعبہ صحت کی آفیشل کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ خاتون لوگوں کو نصیحت کر رہی ہے کہ چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ اس سے کرونا وائرس پھیلتا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے چہرے کو چھونا شروع کر دیا ۔اسی طرح امریکی صدر ایک تصویر میں  انکھ  پر  انگلی لگا تے پائے گئے۔

ان مذکورہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل لاشعوری ہے اور جب تک اس کو شعوری سطح پر نہ لایا جائے تو اس عادت سے چھٹکارا مشکل ہے۔
اس عادت کو چھوڑنے کے لئے کچھ عملی تجاویز ہیں جن کو اپنا کر خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جاسکتی  ہے۔
   یہ ایک منٹ کی وڈیو ضرور دیکھیں
اول: دائیں ہاتھ سے سارے کام کرنے کی عادت ڈالی جائے  اور بائیں ہاتھ  کو صرف اور صرف چہرے کو کجھلانے کے لیے رکھ لیا جائے ۔

دوئم: چہرے کے لیے ایک خصوصی ٹوپی نما کرونا ماسک تیار کیا جائے ۔ ایسا ماسک پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث لوگ استعمال کرتے ہیں ۔ جس سے سر بھی ڈھنپ جاتا ہے  اور اگر آنکھوں کے سوراخ کی جگہ شیشے لگ جائیں اور ناک کے سوراخ کی جگہ پر ایک باریک جالی جو ذرات اور جراثیم کو روک سکے  اور ماسک  ٹھوڑی سے نیچے تک جائے ۔ صرف کھانا کھاتے وقت  یا پانی پینے کے لئے ماسک کو  اوپر ناک تک کر لیا جائے اور  کھانے پینے کے بعد پھر نیچے کرلیا جائے  اور اسے" کرونا کنٹرولنگ کیپ"  یا صرف ٹرپل سی کا نا م دے دیا جائے ۔
اگر ایسا ماسک کوئی کمپنی بنالے تو اس کے استعمال سے ہاتھوں
 کی چہرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو  روک کر کرونا پر قابو  پایا جا سکتا ہے۔  
سوئم: عام ماسک جو ناک اور منہ پر چڑھاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ زیرو نمبر کی بڑے سائز کی عینک لگا کر ہاتھ کی چہرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو روکا جا سکتا ہے۔
چہارم: ایک اور  ذرا  آکورڈ   ٹوٹکا  ہے کہ انگلیوں کے پوروں پر سرخ مرچ یا سبز مرچ لگا لیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کو اچھی طرح پتہ چل جائے گا آپ چہرہ کے کس حصے کو کجھلاتے ہیں بلکہ مرچوں کی ایسی جلن  ہوگی کہ دوبارہ ہاتھ چہرے کی طرف جاتے ہوئے ایک دو دفعہ ضرور سوچے گا۔
پنجم: ہاتھ کے مختلف حصوں پر غور کریں ۔  چہرہ کھجلانے میں پورا ہاتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف انگلیاں استعمال ہوتی ہیں ۔  پوری انگلیاں بھی نہیں بلکہ اگلے پوروں سے کجھلایا جاتا ہے ۔ ساری انگلیاں بھی یکساں استعمال نہیں ہوتیں ۔  تحقیق سے پتہ چلا ہے  کہ انسان شہادت کی انگلی( انڈیکس فنگر )  کو سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے  اور چھوٹی انگلی( پنکی فنگر) سب سے کم ۔ تو اپنا فوکس پوروں پر اور انڈکس فنگر پر مرکوز کرلیں  اور ان کی صفائی کو یقینی بنالیں   تو وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکتا ہے ۔
اور ڈاکٹر پرائس  کے تجویز کردہ دو طریقوں : " ہاتھوں اور اشیاء کے تعلق"  اور "ہاتھوں اور چہرے کے تعلق"   کو توڑ  کر کرونا سے  ننانوے فیصد محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

WHY PEOPLE ARE AGAINST YOU INSPITE OF YOUR DEVOTION ???

 WHY PEOPLE ARE AGAINST YOU INSPITE OF YOUR DEVOTION ??? If people don’t respects you, it is your fault !  If people ignore you,  because yo...