Thursday, 17 September 2026

شوشل اپر وڈ موبلٹی اور قوم کی ترقی کا راز ! (SOCIAL UPWARD MOBILITY AND SECRET OF NATION SUCCESS)

 شوشل اپر وڈ موبلٹی اور قوم کی ترقی کا راز !

پروفیسر وقار حسین

SOCIAL UPWARD MOBILITY
AND SECRET OF NATION SUCCESS

‏آج کی دنیا میں معاشرتی ترقی اور فرد کی کامیابی کے دو بنیادی رخ ہیں:
ایک وہ معاشرہ جہاں سوشل اپر وڈ موبلٹی (Social Upward Mobility) موجود
ہے، اور دوسرا وہ جہاں یہ تصور ابھی نہیں پایا جاتا۔
‏مثال کے طور پر،
امریکہ کو ایک ایسا معاشرہ سمجھا جاتا ہے جہاں اگر کسی فرد  میں صلاحیت،
محنت اور ہنر ہے، تو معاشرہ اسے اپنی مکمل سپورٹ فراہم کرتا ہے۔اسے کہتے
ہیں ؛
‏  "چل بچے، ہم سب تمہارے پیچھے ہیں" ۔
‏اس ماحول میں فرد کے لئے ترقی کے دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور معاشرہ اس
کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس سسٹم کو سوشل اپر وڈ موبلٹی کہتے ہیں، جو کہ
قوم کی ترقی کا بنیادی محرک ہے۔
‏اس کے برعکس، کچھ معاشروں میں یہ تصور بالکل الٹ ہے۔ یہاں فرد کی
صلاحیتوں اور محنت کو کسی بھی صورت میں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
بلکہ، ایسے معاشروں میں ایک فرد چاہے کتنی ہی محنت کرے، اس کی ترقی کو
روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اگر کسی میں talent ہے تو اسکی
ٹانگیں کھنچی جاتی ہیں۔
‏پاکستانی معاشرہ اس حوالے سے ایک مثال ہے، جہاں
سوشل نیچے گرنے کا رجحان بہت عام ہے۔ ایک استاد کی حیثیت سے میں نے دیکھا
ہے کہ یہاں نوجوانوں میں بے انتہا ٹیلنٹ پایا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے
اکثر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ سول سرونٹ کی حیثیت سے دیکھا کہ
اایماندار اور قابل افسروں کو اکثر ان کے حق سے محروم دیکھا  اور  وہ
پیچھے دھکیلے گۓ۔
‏ہماری یہ نفسیات، کہ ہم دوسروں کو نیچے دھکیلیں، ایک
"بیسٹنگ سن" (besetting sin) جنم پاپ ہے، جو قوم کی ترقی میں سب سے بڑی
رکاوٹ ہے۔
‏ایک لطیفہ اور اس کے پیغام سے معاشرتی نفسیات کا اندازہ ہوگا :
‏ایک شخص جہنم میں گیا اور وہاں دیکھا کہ لوگوں کو مختلف اقوام کے نام سے
سزا دی جا رہی ہے۔ جرمن، فرانسیسی، امریکی، اور پاکستا نیوں کو جلتے
تندوروں  میں  سزا دی جا رہی تھی۔ہر تندور کے منہ پر دو محافظ  تھے تاکہ
اگر کوئ باہر نکلنے کی کوشش کرے تو واپس تندور میں پھینک دیا جاۓ
‏جب اسے
بتایا گیا کہ یہاں پاکستانیوں کو سزا دی جا رہی ہے، تو اس نے حیرت سے
پوچھا: "یہاں محافظ کہاں ہیں؟"
‏تو بتایا گیا کہ یہاں محافظ کی ضرورت ہی
نہیں، کیونکہ جب کوئ  پاکستانی باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو  دوسرے اس
کی ٹانگیں کھیچ لیتے ہیں۔
‏یہ لطیفہ صرف ایک مذاق نہیں، بلکہ ایک معاشرتی
حقیقت کی عکاسی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچے دھکیلنے کا رجحان
اتنا شدید ہے کہ ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔
‏یہ رویہ قوم کی ترقی کے
لئے زہر قاتل ہے، کیونکہ یہ افراد کو محدود اور قوم کو پیچھے رکھ دیتا
ہے۔
‏سوشل اپر وڈ موبلٹی کی اہمیت اور ضرورت کو نظرنداز نہیں جا سکتا - اگر
ہمیں عالمی سطح پر عزت اور مقام حاصل کرنا ہے، تو ہمیں اپنے معاشرتی
رویوں کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں سکھنا ہوگا کہ ترقی اور کامیابی کا راز سوشل
اپر وڈ موبلٹی میں ہے۔
‏جو قومیں اپنے افراد کو آگے بڑھنے کا موقع دیتی
ہیں، وہ ہی آگے نکلتی ہیں۔ مثال کے طور پر،چین،  جنوبی کوریا، سنگاپور،
اور امریکہ جیسے ممالک نے یہ اصول اپنایا ہے۔
‏لیکن بدقسمتی سے، پاکستان
میں یہ تصور عمومی طور پر موجود نہیں، بلکہ یہاں "سوشل ڈاؤن ورڈ موبلٹی"
کا رجحان عام ہے۔ یہ رویہ نہ صرف فرد کی قابلیت کو محدود کرتا ہے بلکہ
قومی ترقی کے خواب کو بھی چکنا چور کر دیتا ہے۔

‏ہمارا معاشرہ، چاہے وہ تعلیمی میدان ہو، سرکاری ملازمتیں یا دیگر شعبے،
سب میں یہی رویہ پایا جاتا ہے کہ کامیاب افراد کو نیچے دھکیلا جائے۔
‏اگر
ہمیں ایک باعزت اور خودمختار قوم بننا ہے، تو ہمیں اپنی نفسیات بدلنی
ہوگی۔ ہمیں سکھنا ہوگا کہ ترقی کا اصل راز سوشل اپر وڈ موبلٹی ہے، تاکہ
ہر فرد اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
‏اس طرح ہی ہم ایک روشن،
خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی طرف بڑھ سکتے ہیں، ورنہ یہی نفسیات
ہمیں ہمیشہ پیچھے رکھے گی اور ہمارے خواب خواب ہی رہ جائیں گے۔  ہم دائرے
کا سفر کرتے رہیں گے جسکا اشارہ منیریازی نے کیا تھا :

‏  منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

‏   کہ حرکت تیز تر ہے  اور  سفر آہستہ آہستہ

No comments:

Post a Comment

Thanks for your comments.

*Pakistan’s olive trees soar from 500,000 to nearly 7 million*

  *Pakistan’s olive trees soar from 500,000 to nearly 7 million* Prof waqar Hussain   Pakistan’s olive plantations have grown from about 500...