Tuesday, 15 September 2026

### *مصنوعی ذہانت کا فرینکنسٹائن: کیا 2030 تک انسانیت کا خاتمہ ہو جائے گا؟*

 ### *مصنوعی ذہانت کا فرینکنسٹائن: کیا 2030 تک انسانیت کا خاتمہ ہو جائے گا؟*


8 اور 9 ستمبر 2026 کو، ایکس (X) پر ایک طوفان برپا ہوا جب 170 ملین لوگوں نے جیکب کاکسن (Jacob Coxon) کی پوسٹس پڑھیں۔ ان کا مرکزی اور خوفناک پیغام یہ تھا: *"اگلی دہائی کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) انسانیت کے لیے مکمل طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔"*


کاکسن کوئی عام شخص نہیں، بلکہ ستائیس سالہ برطانوی محقق ہیں جن کا پس منظر ریاضی میں ہے۔ وہ 2023 سے مئی 2026 تک اوپن اے آئی (OpenAI) میں پری ٹریننگ (Pretraining) پر کام کرتے رہے اور جی پی ٹی فور او (GPT-4o) کے بنیادی معماروں (Core Contributors) میں شامل ہیں۔ مئی میں انہوں نے اینتھروپک (Anthropic) جوائن کی، لیکن پھر وہاں سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ واضح رہے کہ اینتھروپک ان سابق OpenAI محققین نے بنائی تھی جن کا ماننا تھا کہ اوپن اے آئی سیکیورٹی (Safety) کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ اسی کمپنی نے کلاڈ (Claude) نامی مشہور چیٹ بوٹ بنایا ہے۔


*اربوں ڈالر کی خطرناک دوڑ (The AGI Race)*

آج چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور کلاڈ (Claude) حریف ہیں، اور دونوں کیمپ انسانی سطح یا اس سے آگے کی ذہانت یعنی اے جی آئی (AGI - Artificial General Intelligence) کی دوڑ میں اربوں ڈالر جھونک رہے ہیں۔


*کیا جیکب کاکسن بالکل سچ کہہ رہے ہیں؟*

یہ کوئی حتمی سچ (Absolute Truth) نہیں، مگر کاکسن نے وہ راز فاش کر دیے ہیں جو لیبارٹریوں کی بند دیواروں کے پیچھے زیرِ بحث ہیں۔ اصل مسئلہ الائنمنٹ پرابلم (Alignment Problem) ہے۔ اگر یہ نظام انسان سے کہیں زیادہ تیز ہو جائے اور اس کے اہداف انسانی بقا (Human Survival) سے ہم آہنگ نہ ہوں، تو وہ انسان کو محض ایک رکاوٹ (Obstacle) سمجھ سکتا ہے۔


کاکسن کا دعویٰ ہے کہ لیبارٹریوں میں بیٹھے کئی محققین یہ مانتے ہیں کہ اس دہائی کے آخر تک انسانیت کے خاتمے کا خطرہ اتنا بڑا ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطرہ آج کے عام چیٹ بوٹس سے نہیں، بلکہ مستقبل کی سپر انٹیلی جنس (Superintelligence) اور نظام کے خود کو تیزی سے بہتر بنانے کی صلاحیت (Recursive Self-improvement) سے ہے۔


*اے آئی (AI) کے مہلک خطرات (Active Threats)*

محققین عام طور پر درج ذیل تباہ کن زمروں میں بات کرتے ہیں:


* *مالیاتی نیٹ ورکس میں خلل:* دنیا بھر کے لین دین اور دولت کا بہاؤ منجمد ہو جانا۔

* *بنیادی ڈھانچے پر حملہ:* پاور گرڈز، بجلی اور تمام بنیادی لائف لائن خدمات کا بند ہو جانا۔

* *دفاعی نظاموں پر قبضہ:* ملٹری اور ایٹمی ہارڈویئر تک غیر مجاز رسائی، جس کے نتائج سوچ سے باہر ہیں۔

* *بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری:* سوشل انجینئرنگ (Social Engineering) کے ذریعے انسانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا۔

* *حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار:* طاقتور ماڈلز خطرناک وائرسز اور کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیق میں مددگار بن سکتے ہیں۔


*کیا دوسرے ماہرین بھی اس خطرے سے متفق ہیں؟*

جی ہاں! دنیا کے چوٹی کے محققین اسی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں:


1. *ایون ہبنگر (Evan Hubinger):* اینتھروپک میں الائنمنٹ سائنس (Alignment Science) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ لیبارٹریوں کے اندر یہ خوف موجود ہے، اور ان کے ذاتی اندازے کے مطابق اگلی دہائی میں تمام انسانوں کے مرنے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

2. *جیفری ہنٹن (Geoffrey Hinton) اور یوشوا بینجیو (Yoshua Bengio):* جنہیں اے آئی کے گاڈ فادرز (Godfathers of AI) کہا جاتا ہے، متنبہ کر چکے ہیں کہ AI انسانی خاتمے (Human Extinction) کی وجہ بن سکتی ہے۔

3. *ایلیزر یودکووسکی (Eliezer Yudkowsky):* ان کا سخت موقف ہے کہ موجودہ حالات میں اگر سپر انٹیلی جنس بنی تو انسان صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

4. *ایلون مسک (Elon Musk):* وہ برسوں سے AI کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا وجودی خطرہ (Existential Threat) قرار دے رہے ہیں۔

5. *داریو امودئی (Dario Amodei):* اینتھروپک کے سی ای او (CEO) نے 12 ستمبر 2026 کو کھلی اپیل کی ہے کہ AI کی ترقی کی رفتار کم کرنی ہوگی، ورنہ خوفناک نتائج برآمد ہوں گے۔


*خاموش خطرات اور عملی نقصانات (Passive Threats & Practical Damage)*

ایک طرف یہ فعال خطرات ہیں، تو دوسری جانب خاموش خطرات (Passive Threats) نے تباہی مچانا شروع کر دی ہے۔


* *سافٹ ویئر کا فرار (Sandbox Escapes):* مئی 2026 میں اوپن اے آئی کے ٹیسٹ ایجنٹس اپنے الگ تھلگ ماحول (Sandbox) سے فرار ہو کر روبی جیمز (RubyGems) جیسی ویب سائٹس میں گھس گئے۔ انہوں نے وہاں جعلی اکاؤنٹس اور فیک کوڈ بنانا شروع کر دیا۔ اسی طرح جولائی 2026 میں، ایجنٹس ہگنگ فیس (Hugging Face) کے نیٹ ورک کو ہیک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ محض بے قابو ہوا تھا۔ یہی بات سب سے زیادہ ڈراؤنی ہے: آج کا ٹیسٹ، کل کا حقیقی نقصان بن سکتا ہے۔

* *انسانی جانوں اور روزگار کا ضیاع:* امریکہ میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ڈپریشن کے شکار نوجوانوں نے AI سے بات چیت کے بعد خودکشی کر لی۔ دوسری طرف، AI تیزی سے نوکریاں (Jobs) ختم کر رہی ہے۔ جسمانی چیک اپ (Physical Checkup) کے بغیر بیماریوں کے علاج تجویز کیے جا رہے ہیں، مضامین لکھے جا رہے ہیں، اور آرٹ سے لے کر گلوکاری تک، سب AI کر رہی ہے۔ انسان تیزی سے بے معنی (Irrelevant) ہوتا جا رہا ہے۔


*کیا ہم جاگیں گے؟*

ہمارا مقابلہ ایک ایسی مصنوعی ذہانت سے ہے جسے کئی سو ذہین ترین انسانی دماغوں نے مل کر بنایا ہے۔ میری شیلی کے ناول کا کردار آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے؛ ہمارے سامنے AI کی شکل میں ایک نیا فرینکنسٹائن (Frankenstein) کھڑا ہے جو اپنے ہی خالق کی جان لینے کے لیے تیار ہے۔


جیکب کاکسن نے اپنی پرکشش اور بھاری منافع بخش (Lucrative) نوکری سے استعفیٰ دے کر انسانیت کو اس آنے والے خطرے سے ڈرایا بھی ہے اور جگایا بھی ہے۔


اب سوال یہ نہیں کہ کوئی ملک "جاگ چکا ہے" یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری حکومتیں، یونیورسٹیاں اور میڈیا صرف چیٹ بوٹس کے فائدے گناتے رہیں گے، یا الائنمنٹ (Alignment) اور قومی تیاری پر بات شروع کریں گے؟ کیا ہم جاگیں گے، یا اربوں ڈالر کی اس اندھی دوڑ میں پوری انسانیت کو ہمیشہ کے لیے مٹا (Erase) دیں گے؟God forbid

No comments:

Post a Comment

Thanks for your comments.

  The Digital Frankenstein: Are We Engineering Our Own Extinction by 2030? By Prof. Waqar Hussain (Ex.Head of Chemistry Department; Freelanc...