* کا نشہ اور نوجوان:Breaking Bad * کہانی
آج آپ کو ایک کہانی سنانی ہے۔
ایک نوجوان نے internet سیکھ لیا۔ AI کا استعمال بھی کرنے لگا۔ اسکرین نے استاد کی جگہ لے لی، مشورے کی جگہ لے لی اور آہستہ آہستہ ضمیر کی جگہ بھی لینے لگا۔
Internet پر مشہور امریکی کرائم ڈرامہ Breaking Bad دیکھنے لگا ۔ جرم کی دنیا، چھپے منصوبے، اور وہ خیال جو عام گھر میں نہیں آنا چاہیے۔ وہ جرم کی دنیا دیکھنے لگا ۔باپ ہر بات پر ڈانٹتا، سمجھاتا۔ نوجوان کو وہ ڈانٹ زنجیر لگنے لگی۔ غصہ جمع ہوتا گیا۔ پھر اس نے سوچا: دشمن وہی ہے جو روز روکتا ہے۔
اس نے AI سے پوچھ پوچھ کر گھر میں خطرناک کام شروع کر دیا اور زہر کی لیبارٹری بنا ڈالی اور زہر بنا لیا ۔ موقع ملتے ہی باپ کو زہر دینے کی کوشش کی۔ زہر بے اثر رہا۔ باپ بچ گیا۔
ناکامی نے شرم نہیں دی، ہٹ دھرمی دی۔ نوجوان نے پھر AI سے کہا: اثر نہیں ہوا، دوبارہ رہنمائی کرو۔
AI نے نوجوان کی رہنمائی نہیں کی بلکہ *NCCIA* کی رہنمائی کردی ۔انہوں نے اطلاع ملتے ہی گرفتار کر لیا ۔ سنا ہے اب وہی باپ اس کی رہائی کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ نوجوان سلاخوں کے پیچھے ہے۔ اقدامِ قتل کی کارروائی کا سامنا ہے۔
گھر خاموش ہے۔ گلی میں سرگوشیاں ہیں۔ محلہ لعنت کے لیے تیار ہے۔ معاشرہ لٹھ لیے کھڑا ہے کہ کب باہر نکلے تو ملامت برسے۔ نہ گھر بچا، نہ گلی، نہ محلہ۔ پورے ملک کی نفرت اس کے سر پر آ بیٹھی۔
یہ محض کہانی نہیں۔ بہاولپور کے ایک نوجوان سے جوڑا جانے والا سچا بیان ہے، جیسا ادارے نے بتایا۔
*سبق پہلا:* Internet پر search monitor ہوتی ہے۔ آپ کس کو کال کرتے ہیں، کسے پیسے بھیجتے ہیں، online کیا آرڈر کرتے ہیں، کن sites پر جاتے ہیں — سب record میں آ سکتا ہے۔
*سبق دوسرا:* قتل، قتل ہوتا ہے۔ چھپتا نہیں۔
اگر کہانی کے theme کی سمجھ نہ آئے تو ویڈیو دیکھ لیں: *“گوگا، گوگی اور گوگل”*
https://youtu.be/LPqyyAtuRYI?si=aaFnCRpIB-UzzBsb


No comments:
Post a Comment
Thanks for your comments.